Dar e zindan par koi masooma parha karti hai yeh ro kar noha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Shabih Abbas Arfi, Mir Hasan Mir
در زنداں پر کوئی معصومہ پڑھا کرتی ہے یہ رو کر نوحہ
بابا، بابا، بابا، بابا
بہت ڈر مجھ کو یہاں لگتا ہے بہت تنہا ہوں چلے آؤ نا
خود آ کے دیکھ لو بابا میری حالت
نہیں پہچان پاؤ گے میری صورت
سہے بچپن میں مصائب اتنے
ضعیفہ دکھنے لگی یہ دکھیا
بڑا دشوار ہے اس قید میں جینا
بہت یاد آ رہا ہے آپ کا سینہ
گئے ہو جب سے نہیں سوئی میں
سکوں سے اب تک کبھی اک لمحہ
مجھے پھر قبر میں لگنے لگا ہے ڈر
نکالا تھا جنہوں نے لاشہء اصغر
وہ ظالم پھر سے پلٹ آئے ہیں
چھپی اور میں ہوں یہاں پھر تنہا
میں روؤں لے کے کب تک سسکیاں بابا
بہت دکھتی ہیں میری پسلیاں بابا
سکینہ اس دم ہے کس حالت میں
فقط سمجھیں گی یہ دادی زہرا
نظر آتا نہیں آنکھوں کو ملتی ہوں
سہارا لے کے دیواروں کا چلتی ہوں
پکڑ کر زلفیں مجھے ظالم نے
نا جانے کیسا طمانچہ مارا
لگے ہیں زخم جتنے سب دکھاؤں گی
جب آؤ گے تو میں سب کچھ بتاؤں گی
بہت مارا ہے بہت تڑپایا
مجھے لوگوں نے سمجھ کر تنہا
ندیم اس وقت خود زندان روتا تھا
سکینہ جس گھڑی پڑھتی تھی یہ نوحہ
مجھے لگتا ہے کہ اب گھٹ گھٹ کر
نکل جائے گا یہیں دم میرا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.