Arzoo-e-Karbala
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Hasnain Abbas
تڑپتا ہے یہ دل جب کربلا کو لوگ جاتے ہیں
مجھے بھی کوئی کہہ دے آ تجھے مولا بلاتے ہیں
رواں ہوتے ہیں آنسو آنکھوں سے کرتا ہے دل ماتم
عزا خانے کی جانب میں اٹھاتا ہوں قدم اس دم
قدم جب جانب کرب و بلا زائر اٹھاتے ہیں
تمنا کربلا جانے کی صغری سے کوئی پوچھے
چھپا کر چہرہ صغری سے بہت عباس تھے روتے
جو صغری کہتی تھی اکبر بھی مجھ کو چھوڑے جاتے ہیں
پہنچ جاؤں وہیں تب کاش میں بھی سر کے بل چل کے
بوقت صبح جب عاشور کے دن ماتمی حلقے
وہاں پر ماتم زنجیر کر کے خوں بہاتے ہیں
جہاں زینب نے دیکھا تھا گلوئے خشک پہ خنجر
وہاں کرتے تھے گریہ اور ماتم پیٹتے تھے سر
جگر پھٹتا ہے سن کر لوگ جب آ کر بتاتے ہیں
کوئی جب ماتمی کے سامنے ہے کربلا کہتا
غم شبیر میں وہ دیر تک مغموم ہے رہتا
نہ پوچھو اس گھڑی شبیر کتنا یاد آتے ہیں
کفن نہ مل سکا پیاسوں کو اس غم سے تڑپتا ہے
اسے حسرت سے رو رو کر نہ جانے والا تکتا ہے
کفن جو اپنی خاطر کربلا سے لوگ لاتے ہیں
اسد صدیوں سے غیبت میں امام عصر ہیں روتے
بہائیں ہم بھی آنسو خون کے آنکھوں سے کاش ایسے
غم شہ میں وہ آنسو خون کے جیسے بہاتے ہیں
جو اپنے اشک شہ کے غم کی ڈوری میں پروتے ہیں
لپٹ کر تربت شبیر سے جو لوگ روتے ہیں
حبیب ابن مظاہر ان کو سینے سے لگاتے ہیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.