Sada Akbar ki aati thi main uth kar aa nahi sakta
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Joan Rizvi
صدا اکبر کی آتی تھی میں اٹھ کر آ نہیں سکتا مرے سینے میں برچھی ہے
مری جانب چلے آئیں مری آواز پر بابا مرے سینے میں برچھی ہے
مری جانب جو بڑھتے ہیں بڑی مشکل سے چلتے ہیں پڑا بے جان تکتا ہوں کہ گرتے اور اٹھتے ہیں
سہارے دینے خود آتا مگر ممکن نہیں بابا مرے سینے میں برچھی ہے
وہ سب سامان کو باندھے مری راہ دیکھتی ہوگی وطن پر کاش پہنچائے مرا پیغام یہ کوئی
مدینے کس طرح پہنچوں نبھاؤں کس طرح وعدہ مرے سینے میں برچھی ہے
شکستہ پہلو پر اپنے شکستہ ہاتھ کو رکھے سرہانے میرے آپ آئی ہیں دادی چل کے یثرب سے
اٹھوں تعظیم میں کیسے یا دادی فاطمہ زہرا مرے سینے میں برچھی ہے
عبا سے اپنی بابا جاں بنا دیں زخم پہ پردہ مجھے خیموں میں لے جانے سے پہلے ڈھانپ دیں سینہ
اگر زخم جگر دیکھا تو مر جائے گی ماں لیلی مرے سینے میں برچھی ہے
گرا ہوں زین سے جیسے پڑا ہوں خاک پر ویسے میں کروٹ لے نہیں سکتا لگے ہیں تیر کچھ اتنے
نہیں اب اتنی بھی طاقت بدل لوں پہلو بھی اپنا مرے سینے میں برچھی ہے
غدیر خم کے اعلاں کا ہر اک بدلا اتارا ہے محمد جان کر مجھ کو مسلمانوں نے مارا ہے
بدن پر وار ہیں لاکھوں ہے زخمی تیغوں سے چہرہ مرے سینے میں برچھی ہے
قضا کے وقت پر مجھ کو اذیت کیسی آتی ہے کہ جتنی دھوپ بڑھتی ہے کچھ اتنی پیاس بڑھتی ہے
ہے یہ تپتا ہوا صحرا میں ڈھونڈوں کس طرح سایہ مرے سینے میں برچھی ہے
کہا رو کر یہ اکبر نے ہیں آ پہنچیں پھپھی زینب یہی لے جائیں گی بابا ہمیں خیموں کے اندر اب
کہ غم سے آپ کی آنکھوں میں تو چھایا ہے اندھیرا مرے سینے میں برچھی ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.