Asghar ki pyas duniya ke darya rula gayi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Haider Rizvi
اصغر کی پیاس دنیا کے دریا رلا گئی
ہر باضمیر شخص کو یہ بات کھا گئی
یہ درد کون سمجھے کہ بابا کے ہاتھوں پر
چھوٹے سے ایک بیٹے کو ہے موت آگئی
مت پوچھو کیسے تن سے جدا سر کیا گیا
تکلیف یہ سکینہ کو سب کچھ بھلا گئی
بابا نے اپنے بیٹے کی تربت بنائی ہے
اور ماں ہے اپنے بیٹے کی میت اٹھا گئی
وہ آگ جو کے بھائی کے جھولے کو تھی لگی
وہ آگ تو بہن کا ہے دامن جلا گئی
اصغر کی ماں نے رو کے یہ سجاد سے کہا
خیموں کی آگ بیٹے کے جھولے میں آگئی
یہ دکھ ہے شام جاتے ہوئے ایک قیدی ماں
بیٹے کے اجڑے لاشے کو لوری سنا گئی
ان گود والے بیٹوں کا دکھ ہوتا ہے جدا
ماں دھوپ میں گزار کے سب کو بتا گئی
اصغر کا ذکر بیٹے کو میں نے سنایا تو
شام غریباں والی اداسی ہے چھا گئی
یہ درد تو ہے کاظم و حیدر کو کھا گیا
ماں کس طرح سے لاش کو لوری سنا گئی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.