Mera Akbar Maar Diya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
کبھی گرتے تھے کبھی اٹھتے تھے کہتے تھے حسین یہ رو رو کر میرا اکبر مار دیا
کس طرح اٹھاؤں گا لاشہ ہائے میں اپنے کاندھے پر میرا اکبر مار دیا
بیٹے کی جدائی آنکھوں کی بینائی بھی لے جاتی ہے
اک ماں جا جا کر خیمے کی دیواروں سے ٹکراتی ہے
جب باپ صدائیں دیتا ہے رن میں لاشوں سے ٹکرا کر میرا اکبر مار دیا
ارمان اکبر کی شادی کا مرے دل میں ہی دم توڑ گیا
سوچا تھا میں اس کو اپنے ہاتھوں سے بناؤں گا دولہا
یہ باپ سجائے گا ہائے اب سہرا کس کے ماتھے پر میرا اکبر مار دیا
اٹھارہ سال جسے پالا نازوں سے میری زینب نے
برچھی کے بعد اس بیٹے کو تلواروں سے مارا سب نے
کس طرح کہوں گا خیموں میں جب جاؤں گا لاشہ لے کر میرا اکبر مار دیا
مجھے حوصلہ دے ورنہ بیٹا تیرا بابا بھی مر جائے گا
مجھ سے ترے قاتل کہتے ہیں ترا اکبر اب نا آئے گا
وہ نیزہ دکھا کر ہنستے ہیں جب کہتا ہوں میں رو رو کر میرا اکبر مار دیا
چلتے چلتے یہ کہتے ہوئے ہاتھوں سے کمر کو تھام لیا
عباس اگر تم ہوتے تو مرا اکبر بھی زندہ ہوتا
پہلے تجھے مار دیا اور اب ان شام کے لوگوں نے مل کر میرا اکبر مار دیا
جب پاس اکبر کے پہنچے تو زخمی اس کا سینہ دیکھا
بیٹے نے آخری ہچکی لی جب ٹوٹا ہوا نیزہ کھینچا
شبیر نے بس یہ کہتے ہوئے سر رکھ دیا زخمی سینے پر میرا اکبر مار دیا
ذیشان و رضا جب بیٹی کا خط بیٹے کے سینے پہ رکھا
شبیر کے اشکوں کی طرح اکبر کا خون ٹپکنے لگا
جس ہاتھ سے برچھی کھینچی تھی اس ہاتھ سے لکھا جب خط پر میرا اکبر مار دیا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.