Jab Karbala Mein Qaid Hui Aal e Mustafa
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Saleem Mastan O Baradaran
جب کربلا میں قید ہوئی آل مصطفی
عباس نامدار کو زینب نے دی صدا
افسوس چادروں کا محافظ نہیں رہا
سیدانیوں کے سر سے اتاری گئی ردا
وہ وقت تھا کہ اہل حرم کانپنے لگے
کرب و بلا کی خاک سے سر ڈھانپنے لگے
دھول اس قدر کے چہرے کو چہرا نہ دکھ سکے
وہ دھوپ تھی کے سائے بھی تھرا کے رہ گئے
تپتی زمیں پہ کوئی بھلا کس طرح چلے
پھر بھی نہ پست ہو سکے عابد کے حوصلے
بیڑی کے زخم تھے جو جگر کاٹتے رہے
اکبر سے درد زین عبا بانٹتے رہے
بازار کوفہ آگیا اک شور ہے بپا
رونق لگی ہوئی ہے سر راہ ہر جگہ
نامحرموں کے درمیاں زینب ہے بے ردا
پھر بھی لبوں پہ ثانی زہرا کے ہے دعا
پیاسوں کو کربلا کے وہ یوں بھی ستاتے ہیں
گھر کی چھتوں سے کھولتا پانی گراتے ہیں
وارد ہوئے جو شام میں اہل حرم تمام
چلنا ہوا محال اسیروں کا ایک گام
اتنے میں سج گیا کوئی دربار بے لگام
بیٹھا ہوا تھا تخت پہ ظالم ذلیل شام
جانے خدا کہ حال سکینہ کا کیا رہا
ہونٹوں پہ شہ کے جب وہ چھڑی مارتا رہا
زنداں میں قید کر دی گئی شاہ کی بہن
ساتھ ان کے تھی سکینہ بھی مظلوم و خستہ تن
رو رو کے کہتی رہتی تھی اماں وطن وطن
اب اور ظلم سہہ نہیں سکتا میرا بدن
بابا کا سر ملے گا تو کچھ چین پاؤں گی
رخساروں کے میں نیل انہی کو دکھاؤں گی
احسان سر کو پیٹو کہ وہ آ گیا پہر
زنداں میں ھو کا شور ہوا کا نہیں گزر
ظالم نے قید خانے میں بھیجا پدر کا سر
دامن ہوا سکینہ کا اشکوں سے تر بتر
ایسی بھی کیا وہ بابا سے فریاد کر گئی
گالوں پہ گال رکھ کے سکینہ گزر گئی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.