Chala Gaya Abbas
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
علم جو دریا سے آتا ہوا دکھائی دیا
یہ رو کے بچی نے پوچھا کہاں ہیں میرے چچا
سکینہ در پہ جو پہنچیں تو باپ کو دیکھا
علم سکینہ کے ہاتھوں میں دے کے شہ نے کہا
علم بڑھا دو سکینہ چلا گیا عباس
حسین ہو گیا تنہا چلا گیا عباس
یقین آتا نہیں تھا کہ مر گیا غازی
میں تھپ تھپاتا رہا اس کے گال اے بیٹی
مگر حسین کی اس وقت آس ٹوٹ گئی
جب آ کے ماں نے بتایا چلا گیا عباس
سکینہ پانی سے کس کی نظر اتارو گی
تم عمو جان کسے کہہ کے اب پکارو گی
وہ یاد آئے گا جب شام تم سدھارو گی
نہیں ملے گا دوبارہ چلا گیا عباس
پہنچ کے نہر پہ مشکیزہ جب بھرا اس نے
سکینہ یاد تیری پیاس کو رکھا اس نے
تھا اس کے سامنے پانی نہیں پیا اس نے
تمہاری طرح سے پیاسا چلا گیا عباس
کسی نے گرز جو مارا تو وہ سنبھل نہ سکا
کٹے تھے ہاتھ سہارا وہ کس طرح لیتا
زمیں پہ ایسے گرا زخمی ہو گیا چہرا
دوبارہ اٹھ نہیں پایا چلا گیا عباس
کہاں کہاں اسے روئی ہے میری تنہائی
کہیں بدن تھا کہیں ہاتھ کیا گھڑی آئی
بکھر گیا میرا بتیس سال کا بھائی
پڑا ہے دشت میں لاشہ چلا گیا عباس
جوان بھائی کا مر جانا سخت منزل ہے
میں کیسے زندہ ہوں یہ جانتا میرا دل ہے
مگر سکینہ یہ اک کام سب سے مشکل ہے
تری پھپھی کو بتانا چلا گیا عباس
لگا ہے ہاتھ پہ جو خون یہ اسی کا ہے
تھا اس کی آنکھ میں جو تیر میں نے کھینچا ہے
وہ جانتا تھا میرے دل میں کیا تمنا ہے
پکار کر مجھے بھیا چلا گیا عباس
زمیں پہ گرنے سے دندان اس کے زخمی تھے
کٹے تھے ہونٹ بدن چور چور زخموں سے
تم ایسے حال میں غازی کو دیکھتی کیسے
جبھی تو گھر نہیں آیا چلا گیا عباس
گھڑی وہ آئی تھی ذیشان اور رضا کیسی
کہا یہ خیموں میں جب شہ نے مر گیا غازی
گریں زمین پہ غش کھا کے بیبیاں ساری
کوئی بھی سن نہیں پایا چلا گیا عباس
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.