Karbala Ki Maaon Ki Ghurbat
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Saleem Mastan O Baradaran
ان پر سلام آئیں تھیں مائیں جو کربلا
کتنی بلندیوں پہ تھا ان سب کا حوصلہ
جنت سے دیکھا اور کہا حوا نے مرحبا
نام حسین بیٹوں کو قربان کر دیا
تھا احترام فاطمہ زہرا کے چین کا
بچوں کو سب نے کر دیا صدقہ حسین کا
تھا کس قدر شدید وہ لیلی کا امتحاں
اٹھارہ سال پال کر اکبر کیا جواں
دیکھا جب اس نے رن میں ہیں سرور پہ سختیاں
بیٹے سے بولی بابا پہ قربان کر دو جاں
سہرا اسے سجانے کا ارمان مر گیا
سینے میں جب جوان کے نیزہ اتر گیا
قاسم کی ماں تھی دشت میں شبر کی نائبہ
بیٹے سے بولیں اے مرے نوشا سنو زرا
جاؤ کہ عموں جان پہ تم کر دو جاں فدا
فروہ نے اپنے لعل کو تیار کر دیا
کچھ لمحوں بعد گر گئیں غش سے زمین پر
بیٹے کا لاشہ چھوٹی سے گٹھڑی میں دیکھ کر
حق سے عجب ہی حوصلہ پایا رباب نے
مرنے کے واسطے اسے بھیجا سنوار کے
بیٹے نے جب لگا لیا اک تیر کو گلے
اصغر کو گود میں لیا بوسے دیے اسے
ہاتھوں میں خود اٹھائی ہے نور نظر کی لاش
سرور کے ساتھ دفن کی ننھے پسر کی لاش
اک چار سالہ بیٹی سکینہ، رباب کی
رو رو کے جو حسین پہ زنداں میں سو گئی
یعنی رباب ایک سفر میں اجڑ گئی
سائے میں اس کے بعد وہ بیٹھی نہیں کبھی
جاری رکھا حسین کا ماتم رباب نے
ہر عید پر منایا ہے بس غم رباب نے
غم ہے عماد، عون و محمد کی ماں کا غم
کرب و بلا سے شام جو سہتی رہی ستم
بیٹوں کے غم میں آنکھوں کو اپنی کیا نہ نم
بھائی کے غم کو رکھا ہے بس سب سے محترم
اکبر کے غم میں چین سے سوئی نہیں کبھی
بیٹوں کے غم میں بی بی وہ روئی نہیں کبھی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.