Sar jo Shabbir ka zindan mein laye khuddam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Saleem Mastan & Brothers
سر جو شبیر کا زندان میں لائے خدام
بھائی کے سر کو کیا زینب مضطر نے سلام
تھا گرفتار سلاسل جو زمانے کا امام
اٹھا تعظیم کو لے کر شہ مظلوم کا نام
طشت حلقے میں لئے کشتہء غم رونے لگے
سر شبیر کو دیکھا تو حرم رونے لگے
حال کہنے کا یہ لمحہ جو سکینہ کو ملا
سر شبیر کو سینے سے لگا کر یہ کہا
چھوڑ کر ہم کو گئے آپ کہاں اے بابا
آپ کے بعد ستم ٹوٹے ہیں ہم پر کیا کیا
میرے رخسار پہ جو نیل عیاں ہے بابا
یہ میرے منہ پہ طمانچوں کے نشاں ہے بابا
سب نے ماتم کیا مل کر ہوئی مجلس برپا
چوم کر سر کو عقیدت سے یہ زینب نے کہا
دکھ اٹھائے ہیں بہت تم سے بچھڑ کر بھیا
اپنی آغوش میں سر بالی سکینہ نے لیا
رو رہے تھے سبھی رکتے ہی کہاں تھے آنسو
سر شبیر کی آنکھوں سے رواں تھے آنسو
روتے روتے ہوئی خاموش سکینہ اک بار
کہا زینب نے یہ میں تیری مصیبت کے نثار
آ میری گود میں آجا میری پیاری دلدار
پر سکینہ نہ ہلی اپنی جگہ سے زینب
جا ملی باپ سے وہ باپ کی پیاری بچی
چل بسی شام کے زندان میں دلاری بچی
آپ میداں کو سدھارے تو بڑا ظلم ہوا
آگ خیموں میں لگی جل گیا ساماں سارا
چھن گئے میرے گوہر جل گیا میرا کرتا
روتی پھرتی تھی میں اس دشت بلا میں تنہا
نہ دیا ہم کو کسی نے بھی سہارا بابا
پوچھتا کوئی نہ تھا حال ہمارا بابا
قید سے ہو کے رہا جب یہ مدینے پہنچے
ماں کے کانوں میں سکینہ کے سخن گونجتے تھے
جو ستم بچی پر ٹوٹے وہ بھلائے نہ گئے
روتی پھرتی تھی وہ مظلوم یہی کہہ کہہ کے
ہو کے جب شام کے زندان سے ہوا آتی ہے
اے سکینہ تیرے رونے کی صدا آتی ہے
کانپتے ہاتھوں سے عابد نے بنائی تربت
دفن کی اس میں حسین ابن علی کی دولت
نہ سنی اور نہ دیکھی کہیں ایسی غربت
دل بھر آیا تو ہوئی حد سے زیادہ رقت
بچی کے حال پر سب کشتہء غم روتے تھے
قبر حلقے میں لئے اہل حرم روتے تھے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.