Fatima Ki Sadaye Taqi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Taqi (a.s) recited by Syed Raza Rizvi
یہ آ رہی ہے بقیعہ سے فاطمہ کی صدا
حسن کا غم ہوا تازہ تقی کو زہر ملا
شدید کتنا خدا جانے زہر کا ہے اثر
رضا کے لال کا کٹ کٹ کے گر رہا ہے جگر
مگر نہ پاس ہے کوئی بھی بھائی اور بیٹا
وہاں سہارے کو بہنیں تھیں پاس تھے بھائی
یہاں ہیں قید میں ظلم و ستم تماشائی
عجیب کرب کے عالم میں ہے مرا بیٹا
وہاں تھی جعدہء اشعث ستم پہ باندھے کمر
یہاں ہے دختر مامون کے عجب تیور
کہ ہنس رہی ہے سرہانے کھڑی ہوئی زوجہ
جسے بھی دیکھو تقی کا ہے دشمن جانی
کوئی نہیں جو پلائے غریب کو پانی
میں کیا کروں مرے بچے کا ہے گلا سوکھا
نشاں زمیں پہ لہو کے چھپائے شاہ انام
جگر کے ٹکڑے سنبھالے کھڑے ہیں یوں بھی امام
کہ ایسے حال میں دیکھے نہ باپ کو بیٹا
بڑھا جو درد تو دیوار و در سے ٹکرائے
دل و جگر کو سنبھالے زمین پر آئے
ابوتراب کا بیٹا تراب پر تڑپا
سنی دہائی جو زہرا کی اے رضا بوذر
نجف سے چاک گریبان آ گئے حیدر
علی و فاطمہ زہرا نے پھر کیا نوحہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.