Mat Kar Humein Qabool Ae Nana Ke Madinay
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Return to Madina recited by Mir Hasan Mir
مدینہ آگیا جب یہ صدا ابھرنے لگی
لٹا کے آئے ہیں زہرا کے ہم گھرانے کو
یہ پشت ناقہ سے کلثوم بین کرنے لگی
نہ کر قبول مدینے ہمارے آنے کو
بتائیں کیسے جو ہم پر گزر گیا محشر
سر حسین تڑپتا تھا نوک نیزہ پر
ہر ایک شہر میں مارے گئے ہمیں پتھر
ہمارے چہروں کی جانب تھی شامیوں کی نظر
نہ ہاتھ بھی تھے یہ آزاد منہ چھپانے کو
بچھڑ کے اپنی بہن سے دوبارہ مل نہ سکی
وہ دل میں لے گئی حسرت مدینے آنے کی
مصیبتوں کے اندھیروں میں چل بسی بچی
ہمیں رہائی ملی وہ ہے آج بھی قیدی
بسا لیا ہے سکینہ نے قید خانے کو
مدینہ لٹ گئی سرکار تیرے والی کی
میرے حسین کے سوکھے گلے پہ تیغ چلی
بچا نہ عابد بیمار کے سوا کوئی
ہماری گودیاں پردیس میں ہوئیں خالی
قدم اٹھائے نہیں جاتے گھر میں آنے کو
گلی گلی میں پھرایا گیا غریبوں کو
قدم قدم پہ رلایا گیا غریبوں کو
بچھا کے کانٹے چلایا گیا غریبوں کو
تماش بینوں میں لایا گیا غریبوں کو
ثواب سمجھا گیا ہے ہمیں ستانے کو
طرح طرح سے ستمگر ہمیں سزا دیتے
وہ تازیانوں کی بیمار کو دوا دیتے
اٹھا کے سائے سے وہ دھوپ میں بٹھا دیتے
غریب زہرا کا پرسہ بھلا وہ کیا دیتے
نہ آیا کوئی ردا بھی ہمیں اڑھانے کو
نہ لکھ سکے گا تکلم سماں وہ تیرا قلم
تھے گرد اہل مدینہ عجیب تھا عالم
یہ کہہ کہ ناقوں سے اترے سیاہ پوش حرم
یہاں پہ چین سے ہوگا حسین کا ماتم
ترس گئے تھے ہم اشک عزا بہانے کو
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.