Acha Hua Sughra
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Return to Madina recited by Mir Hasan Mir
جب اہل حرم آئے مدینے میں پلٹ کر
اچھا ہوا صغری تو میرے ساتھ نہیں تھی
صغری سے کہا ثانی زہرا نے لپٹ کر
زینب کا تھا نوحہ ہم لٹ گئے صغری
ہائے اس بات پہ کرتی ہوں ادا شکر کا سجدہ
ہم میں سے کسی کا تو سلامت رہا پردہ
ارے کس طرح بتاؤں تجھے دل پھٹتا ہے میرا
سادات کی غیرت کا تقاضہ نہیں صغری
بس اتنا ہی کہتی ہوں ردا اب کہ چھنی تھی
ہائے تو پوچھتی ہے سرخ ہے کیوں آپ کی چادر
آ تجھ کو بتاؤں میرے مظلوم کی دختر
جب خیمے میں شہ لائے تھے لاش علی اکبر
میں ایسے گری لاش کے پہلو میں تڑپ کر
اکبر کے لہو سے یہ ردا سرخ ہوئی تھی
ہائے کس طرح رہی ہوگی تو اس گھر میں اکیلی
احساس مجھے ہے تیرے اس درد کا بیٹی
لیکن تو ضعیفہ ہوئی فرقت میں پدر کی
تجھ کو تو خبر صرف شہادت کی ہے پہنچی
میں شہ کا گلا کٹتے ہوئے دیکھ رہی تھی
ہائے کیا بغض ہے بابا سے مسلمانوں کو جانے
ارے پھر آئے تھے گھر فاطمہ زہرا کا جلانے
سب آ کے کھڑے ہو گئے بیکس کے سرہانے
ارے اس وقت ستمگاروں سے عابد کو بچانے
بیٹی پھپھی اماں تیری شعلوں پہ چلی تھی
ہائے تنہائی میں لے جا کے کبھی پوچھنا ماں سے
کس طرح سے گزری تیری ماں بہنیں وہاں سے
باتیں جہاں سب کرتے ہیں پتھر کی زباں سے
ارے شب کو بھی گزرنا بڑا مشکل ہے جہاں سے
بے پردہ وہاں دن میں ہر اک بی بی کھڑی تھی
ہائے ارے نانا کا مدینہ ہے نہیں خوف کسی کا
دل کھول کے رو کون تجھے مارے گا درہ
ارے لیکن کبھی بابا پہ جو روتی تھی سکینہ
سیلی کبھی درہ کبھی کھاتی تھی طمانچہ
ارے رونے پہ بھی معصوم کے پابندی لگی تھی
ہائے اے میر تکلم وہ قیامت تھی قیامت
زینب نے سنائی جو سکینہ کی شہادت
ارے سادات پہ صغری تھا عجب عالم غربت
زنداں کے اندھیرے میں بنائی گئی تربت
دم توڑتی بچی نے بھی یہ بات کہی تھی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.