Mazloom ka matam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Kazmi Brothers
مظلوم کا ماتم ہے رکا ہے نہ رکےگا
یہ ایسا دیا ہے جو ہواوں میں جلےگا
رخسار یزیدی پہ لگےگا وہ طمانچہ
جو ہاتھ عزادار کے سینےثہ پڑےگا
مظلوم کا ماتم ہے۔۔۔
شہ بولے یہ ہاتھوں پہ اٹھا کر سر مقتل
ہے کون جو اصغر سے میرے بعد کرےگا
مظلوم کا ماتم ہے۔۔۔
سدا رہےگا حسین کا غم
یہ شور گریہ یہ شور ماتم
زہرا کی دعا ہے یہ ماتم
یہ ماتم کیسے رک جاے
سہ روز کے پیاسوں سے یہ پانی کاہے وعدہ
کونین میں اب کوی بھی پیاسہ نہ رہےگا
مظلوم کا ماتم ہے۔۔۔
حر بن کے کوی آے تو شبیر کی جانب
یہ ایسا گھرانہ ہے جو مانگو گے ملےگا
مظلوم کا ماتم ہے۔۔۔
اکبر نے کہا شہ سے الٹ دوں گا میں لشکر
بابا مجھے دو گھونٹ اگر پانی ملےگا
مظلوم کا ماتم ہے۔۔۔
بادشاہ کربلا دین کا ہے آسرا
تیری مجلس تیرا ماتم زندگی ہے یا حسیم
یا حسیم یا حسیم یا حسیم
قائم کو زرا آنے دو غیبت سے تکلم
اک حلقہ ابھی خانہء کعبہ میں لگے گا
مظلوم کا ماتم ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.