Sakina, Abid ko dekhti thi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Syed Ali Naqvi
لعین نے جب بھی طمانچہ مارا سکینہ، عابد کو دیکھتی تھی
کسی نے مارا جو تازیانہ سکینہ، عابد کو دیکھتی تھی
غریب کرب و بلا کی بیٹی
چلی ہے کرب و بلا سے پیاسی
لعین اس طرح راستے میں
بڑھائی پیاسوں کی تشنگی بھی
دکھا کے پانی کو جب بہایا
سکینہ، عابد کو دیکھتی تھی
وہ شام غربت وہ جلتے خیمے
بلا رہی تھی چچا کو رو کے
تڑپ رہی تھی جب اس کے گوہر
لعیں کانوں سے اس کے کھینچے
جب اس کے کانوں سے خون نکلا
سکینہ، عابد کو دیکھتی تھی
یتیمی کی پہلی رات میں ہی
گلے میں اس کے بندھی تھی رسی
صدائیں دیتی تھی بھائی بھائی
وہ اپنی غربت پہ رو رہی تھی
جب آگ سے جل رہا تھا کرتا
سکینہ، عابد کو دیکھتی تھی
تھا کیسا دربار میں وہ منظر
تھا طشت میں جب حسین کا سر
چھڑی جو ظالم نے ماری ہنس کے
غریب زہرا کے زخمی لب پر
بہن کو سجاد دیکھتا تھا
سکینہ، عابد کو دیکھتی تھی
حسین کا سر بھی رو رہا تھا
تھا وقت سیدانیوں پہ کیسا
شکستہ ہاتھوں سے منہ چھپا کر
زمین پہ تب گر گئیں سکینہ
کنیزی میں جب لعیں نے مانگا
سکینہ، عابد کو دیکھتی تھی
چچا کا سر جب اسے دکھایا
پکڑ کے بالوں سے اس کو مارا
زمیں پہ سر گر گیا تو اس نے
چچا کا سر گود میں اٹھایا
لعیں نے درہ اسے لگایا
سکینہ، عابد کو دیکھتی تھی
اسیر ہو کر جو قید پہنچی
علی و ذیشان رو کے بولی
بہت اندھیرا ہے دیکھو بھائی
یہاں پہ میں کس طرح رہوں گی
قدم کو زندان میں رکھا تھا
سکینہ، عابد کو دیکھتی تھی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.