Kazim Ki Zanjeerain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Kazim (a.s) recited by Qaisar Abbas
تابوت سے کاظم کی زنجیریں لٹکتی ہیں
جو جسم کے حصوں کو کھا کھا کے گزرتی ہیں
تبدیل کیئے کتنے زندان ہیں قیدی کے
آرام نہیں پل بھی دیا زہر ہے ظالم نے
زندان میں کاظم کی اب سانسیں الجھتی ہیں
بغداد کے پل پر ہیں بے گور و کفن کاظم
غربت پہ کریں جن کی یہ ارض و سماں ماتم
برقعے میں کوئی بی بی لاشے پہ سسکتی ہیں
آکر دو رضا کاندھا تدفین کو آجاؤ
اے والی مشہد تم بغداد چلے آؤ
ہے دھوپ بہت مولا زنجیریں بھی تپتی ہیں
مصروف عبادت اور مصروف عزا رہ کر
تبلیغ خدا کی ہے زنداں کے ستم سہ کر
کاظم کی سبھی وصفیں سجاد سے ملتی ہیں
آؤ اے عزادارو دیں فاطمہ کو پرسہ
مارا ہے لعینوں نے بے جرم و خطا مولا
یہ حلقہ ماتم سے آوازیں ابھرتی ہیں
شب و روز کریں گریہ حالات پہ کاظم کے
قیصر بھی پڑھے نوحہ حالات پہ کاظم کے
لکھ لکھ کے غلام آنکھیں ہائے غم سے برستی ہیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.