Kazim Ka Hai Janaza
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Kazim (a.s) recited by Mesum Abbas
کاظم کا ہے جنازہ بغداد کے پل پر
رونے کو آئیں زہرا بغداد کے پل پر
پچیسویں رجب کو تابوت ہے یہ کیسا
ڈوبا ہوا لہو میں زنجیر میں ہے جکڑا
ہے تین دن سے رکھا بغداد کے پل پر
ہارون نے نا جانے کیسا زہر دیا ہے
تن پاش پاش ہائے کاظم کا ہو گیا ہے
گٹھڑی میں آئے مولا بغداد کے پل پر
بیٹا امام کا ہے بابا امام کا ہے
شہ کی طرح سے اس پہ غربت کی انتہا ہے
بے گور و بے کفن تھا بغداد کے پل پر
جس بے وطن کی میت مزدور نے اٹھائی
میت پہ جس پدر کی بیٹی بھی رو نہ پائی
روتی ہے اس کو دنیا بغداد کے پل پر
اترے بدن کے ٹکڑے زنجیر میں لپٹ کر
معصومہ دیکھتی تو مر جاتی وہ وہیں پر
کس حال میں ہے بابا بغداد کے پل پر
سرور کی لاڈلی پہ چودہ برس جو رویا
عابد کو ساتھ لے کے کرنے کو اس پہ گریہ
آتی ہے خود سکینہ بغداد کے پل پر
اٹھتا ہے جب جنازہ ہائے ساتویں علی کا
کرنے کو اس پہ گریہ آتیں ہیں بی بی زہرا
لوگو ادب سے آنا بغداد کے پل پر
جب کاظمین جاؤ کاظم کا غم منانے
اے ارسلان و میثم واجب ہوا ہے تم پے
تابوت تم اٹھانا بغداد کے پل پر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.