Aye zairon tumhein Shabbir ne bulaya hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Rizwan Zaidi, Sajjad Zaidi, Meesam Zaidi
اے زائروں تمہیں شبیر نے بلایا ہے
پیام حضرت عباس یہ ہی آیا ہے
تمہارا نام بھی ہے زائرین میں شامل
چلو کہ تم کو بلاتی ہے آج خود منزل
تھی دل میں جس کی تمنا وہ وقت آیا ہے
بناؤ قافلہ اور جانب حسین بڑھو
کہیں پہ نوحہ پڑھو اور کہیں سلام پڑھو
چلو کہ وقت یہ تقدیر نے دکھایا ہے
چلیں گے ہم بھی جو پیدل ہی سوئے کرب و بلا
علم ہو ساتھ تو پھر عشق کا سفر ہوگا
یہ سوچ کر ہی جری کا علم اٹھایا ہے
بلا رہا ہے تمہیں زائروں وہ ہی رستہ
وہ رستہ جس پہ کہ اک سلسلہ ہے مشی کا
وہ مشی جس نے کہ سب کا حشم بڑھایا ہے
یہ اربعین ہے اس کا جسے ملے ہیں محن
وہ جس غریب کا چہلم منا سکی نہ بہن
وہ جس کو اہل ستم نے بہت ستایا ہے
کروڑوں ہوتے ہیں جب زائرین شاہ امم
تو یہ ہی ہوتا ہے محسوس کربلا کی قسم
کہ جیسے سارا جہاں اک جگہ سمایا ہے
مقام اکبر و اصغر پہ اشک برسانا
جری کو روتے ہوئے اس مقام پر جانا
جہاں پہ غازی نے اپنا لہو بہایا ہے
اسی کے روضے پہ جائیں گے ہم بھی روتے ہوئے
جو علقمہ سے نہ آیا تو بس تڑپتے ہوئے
بہن نے دشت میں جس کا علم بڑھایا ہے
اے کاش جلد ہی قسمت وہ دن بھی دکھلائے
کہ جب زبان پہ اظہار کے یہی آئے
مجھے بھی کرب و بلا شاہ نے بلایا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.