Karbala Jane Walo Karbala Jane Walo
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Mir Hasan Mir, Mir Jawad Mir
کربلا جانے والو، کربلا جانے والو
جانے والو در عباس پہ جب تم جانا
یہ عریضہ میرے مولا کو سنا کر آنا
سب سے پہلے انہیں کہنا میری جانب سے سلام
پھر یہ کہنا کے تڑپتا ہے وطن میں وہ غلام
کچھ نہیں لانا فقط اذن زیارت لانا
کہنا ہاشم کے قمر سے یہ کریں اور کرم
دیکھنے ہیں مجھے روضوں کے بدلتے پرچم
اس برس ماہ عزا مجھ کو وہیں دکھلانا
کہنا حضرت سے وسائل کو کشادہ کر دیں
میرا اس سال ذرا رزق زیادہ کر دیں
بیٹیوں بیٹوں کو ہمراہ مجھے ہے لانا
کربلا پیسوں سے جاتے نہیں مجھ کو ہے خبر
تم بلاتے ہو تو مل جاتا ہے خود زاد سفر
لکھا ہو آنا تو لگتا نہیں اک بھی آنہ
چھوٹے حضرت سے یہ کہنا کے ہے عاشور قریب
یہ بھی کہنا کے کیا اس سال بھی تڑپے گا غریب
خون کا دینا ہے واں آ کے مجھے نذرانہ
ان سے کہنا نہیں مانگوں گا میں آسائش و چین
نیند جب آئے گی سو جاؤں گا بین الحرمین
کفش کو تکیہ بنا کر ہے مجھے سو جانا
اربعیں کی جو بنانے لگیں فہرست آقا
نام میرا بھی سکینہ کے تصدق لکھنا
مجھ کو بھی کربلا پیدل ہے نجف سے جانا
میں اگر شام گیا پہلے تو بولوں گا یہی
آپ کے عمو نے بھیجا ہے سکینہ پانی
تم ابالفضل کے سرداب کا پانی لانا
کیسے زندہ رہی بن آپ کے اصغر کی بہن
مرگئی پر نہ گھلی بچی کی گردن سے رسن
پرسہ معصوم سکینہ کا ہے دینے آنا
میر سجاد کو نوحے کا صلہ یہ دینا
اس برس کرب و بلا آئے گا جب وہ مولا
آپ نذرانے کے بدلے میں نظر آ جانا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.