Jo Haq Sana Hai Wo Ada Ho Nahi Sakta
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Mukhtar Hussain Fatehpuri
جو حق ثنا ہے وہ ادا ہو نہیں سکتا
قرآن سا لہجہ تو میرا ہو نہیں سکتا
دیکھیں نہ جسے دامن زہرا کی نگاہیں
وہ کچھ ہو مگر اشک عزا ہو نہیں سکتا
فطرس یہ چلا سوچ کے گہوارے کی جانب
شبیر اگر چاہیں تو کیا ہو نہیں سکتا
پڑھتا ہوں میں ہر شب شب ہجرت کے قصیدے
معبود میرا مجھ سے خفا ہو نہیں سکتا
سویا یہ بتانے کو سدا جاگنے والا
آ جائے جسے نیند خدا ہو نہیں سکتا
ہم ابن مظاہر کے مقلد ہیں کہ ہم سے
سجدہ تیری الفت کا قضا ہو نہیں سکتا
اے باب حوائج تیری دہلیز سے ہٹ کر
دنیا کے فقیروں کا بھلا ہو نہیں سکتا
اس ہاتھ نے کی ہے در عباس پہ بیعت
کٹ سکتا ہے پرچم سے جدا ہو نہیں سکتا
ہے اس کی جزا دامن زہرا میں سکون اب
کوثر میرے آنسو کا صلہ ہو نہیں سکتا
یہ سوچ کے دشمن سے مروت نہیں کرتے
جو شہ کا نہیں ہے وہ میرا ہو نہیں سکتا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.