Jawan laal ko maqtal se jab utha ke chale
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Mir Hasan Mir
جوان لعل کو مقتل سے جب اٹھا کے چلے
حسین روتے رہے اور پسر سے کہتے رہے
خاموش نہ ہو باپ سے باتیں کرو اکبر
ہم تم کو ملا دیں گے پھپھی جان سے جا کر
قدموں کی طرف سے ہیں اٹھائے ہوئے بابا
اور سر کی طرف سے ہیں سنبھالے ہوئے زہرا
آنکھوں کو ذرا کھول کے دیکھو تو یہ منظر
اے لعل کلیجے میں ابھی درد تو ہوگا
نکلا ہے لہو اتنا بدن سرد تو ہوگا
تم چپ ہو تو چلتے ہیں میرے قلب پہ خنجر
دریا پہ گئے ہوں گے جو لڑتے ہوئے بیٹا
جلدی سے بتاؤ میرا پھٹتا ہے کلیجہ
کس حال میں ہے لاشۂ عباس دلاور
تم خون اگلتے ہو تو بھر جاتا ہے چلو
بتلاؤ کریں ضبط کہاں تک میرے آنسو
بیٹا نکل آئے گا کلیجہ میرا باہر
بیٹا ہمیں میدان کی روداد سناؤ
کیا حال ہے اب پیاس کا بابا کو بتاؤ
انگوٹھی دہن سے کیوں نکل آئی ہے باہر
تم خود بھی سمجھتے ہو یہ مجبوری میری ہے
آہستہ جو چلتا ہوں کمر ٹوٹی ہوئی ہے
تھوڑا سا سفر باقی ہے ہمت کرو دلبر
شہ بولے تکلم کے اٹھو آگیا خیمہ
سینے سے ذرا ہاتھ ہٹا لو میرے بیٹا
اس حال میں دیکھے گی تو مر جائے گی مادر
ماتھے سے پسینہ تو ابھی صاف کیا ہے
کیا زخم کی تکلیف نے منہ کھول دیا ہے
سانسیں کیوں میری جان نہیں آتیں برابر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.