Shah par shimr ne jab tegh chalayi hogi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Haider Rizvi
شاہ پر شمر نے جب تیغ چلائی ہوگی
دشت میں فاطمہ زہرا کی دہائی ہوگی
برچھی کھا کر جو گرے ہوں گے زمیں پر اکبر
بے ردا خیمے سے زینب نکل آئی ہوگی
گھوڑوں کی ٹاپوں سے ٹکڑے تھا بدن قاسم کا
لاش شبیر نے کس طرح اٹھائی ہوگی
بس یہی پوچھتی رہتی تھی سکینہ ہر دم
اماں اس قید سے کب میری رہائی ہوگی
روتی ہوگی تمہیں یثرب میں اکیلی صغری
آخری ہچکی جو اکبر تمہیں آئی ہوگی
شاہ سینے پہ سکینہ کو سلا کر بولے
آج کے بعد ہمیشہ کی جدائی ہوگی
چکیاں پیس کے زہرا نے جسے پالا تھا
آج برباد وہ مقتل میں کمائی ہوگی
کیا خبر تھی کہ پسر خون میں ڈوبا ہوگا
مہندی قاسم کی جو فروا نے سجائی ہوگی
لاشہ غازی کا تڑپتا تھا جب آتا تھا خیال
پیاس کس طرح سکینہ نے بجھائی ہوگی
دھوپ میں بیٹھی حسن رو کے یہ کہتی تھیں رباب
کس نے بے شیر تجھے لوری سنائی ہوگی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.