Tum Akbar Ko Uthana
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Joan Rizvi
گھوڑے سے گرے جس گھڑی میدان میں اکبر
جانے لگے شبیر جو خیمے سے نکل کر
زینب نے کہا ساتھ مجھے لے چلو بھیا
میں تم کو سنبھالوں گی تم اکبر کو اٹھانا
وہ درد سے جب ایڑیاں رگڑے گا زمیں پر
تم دیکھ کے مر جاؤ گے اے بھائی وہیں پر
اکبر کے کلیجے میں ہے ٹوٹا ہوا نیزہ
میں تم کو سنبھالوں گی تم اکبر کو اٹھانا
کچھ دکھتا نہیں بھائی وہاں جاؤ گے کیسے
میں جانتی ہوں پہنچو گے تم گرتے سنبھلتے
یہ تم پہ ضعیفی میں قیامت کا ہے لمحہ
میں تم کو سنبھالوں گی تم اکبر کو اٹھانا
جیتے جی ہمیں مارا ہے جس بیٹے کے غم نے
اٹھارہ برس پالا ہے مل کر اسے ہم نے
آسان نہیں خیموں میں تنہا اسے لانا
میں تم کو سنبھالوں گی تم اکبر کو اٹھانا
عباس کے مرنے سے کمر ٹوٹ چکی ہے
آسان نہیں ہے یہ بہت سخت گھڑی ہے
لاشہ ہے جواں بیٹے کا تم سے نہ اٹھے گا
میں تم کو سنبھالوں گی تم اکبر کو اٹھانا
کوئی نہیں آئے گا تمہیں حوصلہ دینے
ہنس ہنس کے تمہیں دیکھیں گے سب برچھیوں والے
رکھ رکھ کے اٹھاؤ گے جب اکبر کا جنازہ
میں تم کو سنبھالوں گی تم اکبر کو اٹھانا
حسرت تھی کہ اکبر کی رچاؤں گی میں شادی
ارمان میرے دل میں ہی یہ رہ گیا بھائی
اب ساتھ تمہارا دوں یہ ارمان ہے میرا
میں تم کو سنبھالوں گی تم اکبر کو اٹھانا
بہنیں کبھی رہ پاتی نہیں بھائیوں کے بن
اچھا ہوا کہ صغری مدینے میں ہے لیکن
جلدی چلو آ جائے نہ خیموں میں سکینہ
میں تم کو سنبھالوں گی تم اکبر کو اٹھانا
خیمے میں مصلے پہ جو ماں بیٹھی ہوئی ہے
وہ بیٹے کے جینے کی دعا مانگ رہی ہے
آواز میری سن کے نکل آئے نہ لیلی
میں تم کو سنبھالوں گی تم اکبر کو اٹھانا
اے جون لکھے کس طرح ذیشان وہ منظر
مقتل کی طرف شاہ چلے بس یہی کہہ کر
تم پالنے والی ہو سنو اب نہیں کہنا
میں تم کو سنبھالوں گی تم اکبر کو اٹھانا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.