Zainab Ko Dekha Shah Ne Jo Nazdeek e Qatal Gah
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Mir Hasan Mir
زینب کو دیکھا شہ نے جو نزدیک قتل گاہ
اس دم غریب زہرا نے قاتل سے یہ کہا
زینب نکل آئی ہے ذرا روک لے خنجر
مولا یہ صدا دیتے تھے اے شمر ستمگر
تو لاکھ ستمگر ہے مگر کام یہ کر جا
اے شمر میرے سینے سے کچھ دیر اتر جا
مر جائے گی اس حال میں دیکھا جو برادر
آخر تو سفر ہونا ہے اس دار محن سے
دو باتیں تو کر لینے دے بھائی کو بہن سے
آتی ہے میری سمت میری لاڈلی خواہر
دیدار کرے وہ میرا میں بھی اسے دیکھوں
زخمی ہوں مگر آخری تعظیم تو کر لوں
اے شمر بہن ہے یہ میری ماں کے برابر
بھائی کی محبت میں وہ بے تاب ہوئی ہے
خیمے سے بہت تیز وہ مقتل کو چلی ہے
سر سے میری بہنا کے اتر جائے نہ چادر
عباس کی خاطر مجھے پیغام یہ دے گی
شاید علی اکبر کی کوئی بات کرے گی
کچھ دیر تو رونے دے بہن بھائی کو مل کر
زینب چلی جائے تو ستم چاہے جو ڈھانا
ہٹ جائے بہن میری تو خنجر کو چلانا
کچھ دیر میرے شانوں پہ رہنے دے میرا سر
کہنے لگا مولا سے ستمگار یہ ہنس کر
پہلے بھی نکل آئی تھی یہ خیمے سے باہر
شہ نے کہا جب قتل ہوا تھا علی اکبر
مظلوم کی تصویر کو آنکھوں میں بسا کر
شبیر سے معصوم سکینہ کو ملا کر
وعدہ ہے چلی جائے گی واپس میری خواہر
سر شہ کا جدا کرنے میں مصروف لعیں تھا
کیا کہتا ہے مظلوم وہ سنتا ہی نہیں تھا
کہتا رہا سر تن سے جدا ہو کے بھی اکبر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.