Teer tha aankhon mein bazoo ka sahara bhi na tha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Syed Askari Hasan Zaidi
تیر تھا آنکھوں میں بازو کا سہارا بھی نہ تھا
زین سے کیسے خدا جانے گرا عباس تھا
گر پڑے شبیر لاشے پر یہی دے کر صدا
زین سے کیسے خدا جانے گرا عباس تھا
کیسے عابد کو بتاؤں ہائے وہ بیمار ہے
اب وہی پردہ ہے اور وہ قافلہ سالار ہے
اس کو میں کیسے بتاؤں باوفا مارا گیا
زین سے کیسے خدا جانے گرا عباس تھا
اس قدر مظلوم کو تیر و سناں مارے گئے
علقمہ پر ٹکڑے غازی کے بکھر کر رہ گئے
لاشہ غازی بھی اصغر کی طرح لگنے لگا
زین سے کیسے خدا جانے گرا عباس تھا
بے وطن پیاسی سکینہ بھی بہت حساس ہے
آئیں گے دریا سے عمو اس کو اب تک آس ہے
جا کے بیٹی سے میں یا رب یہ نہیں کہہ پاؤں گا
زین سے کیسے خدا جانے گرا عباس تھا
ہو گیا عباس جس دم بے سہارا ہاتھ سے
جس کا دل چاہا اسی نے بڑھ کے مارا ہاتھ سے
خود بخود گرنے لگی تب سر سے زینب کی ردا
زین سے کیسے خدا جانے گرا عباس تھا
ہے یہ فطرت کا تقاضہ کہ کوئی گرتا ہے تو
اس کو ملتا ہے سہارا جس کے تن پر ہاتھ ہو
ہائے اس سالار کے تھے ہو گئے بازو جدا
زین سے کیسے خدا جانے گرا عباس تھا
جوڑ کر ہاتھوں کو زینب بھائی سے کرتی ہے بین
اب میرے پردے کا ضامن کون ہے مولا حسین
جب میرے غازی کو کوئی تھامنے والا نہ تھا
زین سے کیسے خدا جانے گرا عباس تھا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.