Ghurbat e Sajjad
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Saleem Mastan O Baradaran
کیسے ہو بیاں عابد بیمار کی غربت
اس چادر زینب کے عزادار کی غربت
یعنی سر شبیر کے غم خوار کی غربت
جو قید ہے اس قافلہ سالار کی غربت
گھر لٹنے کے غم میں جو سکوں سے نہیں سویا
چالیس برس آنکھوں سے جو خون ہے رویا
جلتے ہوئے خیموں کا دھواں دیکھا ہے اس نے
لٹتے ہوئے اک دن میں جہاں دیکھا ہے اس نے
سر سب کا سر نوک سناں دیکھا ہے اس نے
بازار میں محشر کا سماں دیکھا ہے اس نے
کب ظلم و ستم اس قدر اجداد پہ گزرے
جو قید میں اک سید سجاد پہ گزرے
بے پردہ حرم جب سر دربار گئے تھے
بیٹھے تھے وہاں لوگ جو بدکار بڑے تھے
کب ظلم و ستم عابد مضطر پہ رکے تھے
بہنا کو کنیزی میں لعیں مانگ رہے تھے
ہمشیر کا نام آیا جو بدکار کے لب پر
سجاد لہو روتے رہے خاک پہ گر کر
جب شام کے زندان میں وہ قافلہ پہنچا
تاریکی پہ کرنے لگی خود رات بھی نوحہ
بھائی سے گلے لگ کے پکاری یہ سکینہ
یاد آتا ہے اے بھیا بہت مجھ کو مدینہ
بابا کو بلا دو کہ وہ کروا دیں گے آزاد
بابا نہیں آئے تو میں مر جاؤں گی سجاد
روتے ہوئے جو قید میں وہ سوئی سکینہ
کچھ دیر ہی گزری اٹھی کرتے ہوئے گریہ
عابد سے کہا لینے مجھے آتے ہیں بابا
زندان میں سر حضرت شبیر کا آیا
زندان بھی گونج اٹھا عجب آہ و فغاں سے
روتے ہوئے بابا کو سکینہ گئی جاں سے
اک بی بی نے صغری سے بیاں کی یہ روایت
غربت بھی بکا کرتی تھی ایسی تھی وہ غربت
سب بیبیاں روتی تھیں کہ آئی تھی قیامت
سجاد پہ تھا سب سے بڑا وقت مصیبت
پردیس سے یثرب جو نہیں لایا بہن کو
زندان کی تاریکی میں دفنایا بہن کو
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.