Muharram Aa Gaya Hai Phir Aza Khanay Sajayen Ge
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Moharram recited by Qamar Abbas Naqvi
محرم آ گیا ہے پھر عزا خانے سجائیں گے غم شہ ہم منائیں گے
مقدر سے ملے پھر دن یہ روئیں گے رلائیں گے غم شہ ہم منائیں گے
علمدار حسینی کی وفاداری کا بتلا کر
جلوسوں میں شبیہہ پرچم عباس لہرا کر
علم مظلوم کی مظلومیت کا ہم اٹھائیں گے
غم شہ ہم منائیں گے غم شہ ہم منائیں گے
عزادارو ہیں فرش غم پہ زہرا انتظاری میں
کہ پرسہ دینے کون آتا ہے ان کو پرسہ داری میں
انہیں یہ آس ہے کہ سارے ماتم دار آئیں گے
غم شہ ہم منائیں گے غم شہ ہم منائیں گے
جو دل کا نرم ہو گا حامی مظلوم ہو گا جو
نبی کی آل کے دکھ درد سن کر رو پڑے گا وہ
ستم کیا کیا ہوئے شبیر پر جب ہم سنائیں گے
غم شہ ہم منائیں گے غم شہ ہم منائیں گے
مدینے میں رکھی تھی ظلم کی بنیاد کس کس نے
کیئے تھے سیدوں کے گھر کہاں برباد کس کس نے
جہاں تک سانس ہے سینے میں ان سب کا بتائیں گے
غم شہ ہم منائیں گے غم شہ ہم منائیں گے
بڑا روئے تھے اصغر کا لہو چہرے پہ شہ مل کر
چلا تھا پانی کے بدلے ستم کا تیر اصغر پر
بیاد پیاس اصغر ہم سبیلیں بھی لگائیں گے
غم شہ ہم منائیں گے غم شہ ہم منائیں گے
عزاداری کی خاطر سر بھی کٹتے ہوں تو کٹ جائیں
ہمارے جسم چاہے کتنے ہی ٹکڑوں میں بٹ جائیں
قدم اٹھتے رہیں گے کربلا ہم پھر بھی جائیں گے
غم شہ ہم منائیں گے غم شہ ہم منائیں گے
ہمارا مقصد خلقت ہے کیا ہم نے بتانا ہے
کیا ہے حضرت زہرا سے جو وعدہ نبھانا ہے
بھلے کچھ ہو اسد فرش عزا تو ہم بچھائیں گے
غم شہ ہم منائیں گے غم شہ ہم منائیں گے
گھڑی عاشور میں شام غریباں کی جب آئے گی
عزاداروں کو یاد حضرت زینب رلائے گی
سروں کو پیٹ کر سب اشک غربت پر بہائیں گے
غم شہ ہم منائیں گے غم شہ ہم منائیں گے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.