Roodad e Bibi Sakina
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Syed Mohsin Hasan Jafri
اک چار سالہ بچی کا اب واقعہ سنو
کرب و بلا سے شام کے زنداں تلک چلو
شبیر کی یتیمہ کے حالات میں ڈھلو
غم یوں کرو کے چہرے پہ تم خاک کو ملو
بڑھنے لگا تھا شمر جو سرور کے سامنے
بنت حسین روتی تھی خنجر کے سامنے
بابا پہ چلتا دیکھ کے خنجر سہم گئی
تب سے ہی شمر سے وہ بہت خوف میں رہی
امداد کیلئے وہ سوئے نہر چل پڑی
جب نہ ملے چچا تو نجف کی طرف بڑھی
بولی اے دادا میرے گوہر کھینچتا تھا وہ
بابا پہ چڑھ کے بالوں سے ہئے کھیلتا تھا وہ
دادا جلایا کرتا میرا وامصیبتا
پانی بھی سامنے تھا بہا وامصیبتا
چھینی گئی سروں سے ردا وامصیبتا
مجھ کو تھا تازیانہ لگا وامصیبتا
جب سے چچا گئے ہیں نظر کم میری ہوئی
دادی کو مت بتانا کمر خم میری ہوئی
پانی کا کوزہ آیا جو پیاسوں کے واسطے
زینب نے وہ بڑھا دیا بچوں کے سامنے
بچوں میں پھر سکینہ کے چہرے کو دیکھ کے
بولی اے جان چھوٹی ہو تم ہی ہر ایک سے
یہ سن کے اٹھ کے بولی وہ خیمے کے باب پر
اصغر کا حق ہے مجھ سے زیادہ اس آب پر
گزری جو غم کی شام تو بچے گنے گئے
اک نہ ملی تو خیمے میں نالے شروع ہوئے
فضہ کے ساتھ بنت علی کے قدم بڑھے
ہائے سکینہ کہہ کے وہ مقتل کی جا چلے
منظر جو دیکھا گر گئی زینب بھی کانپ کر
تیروں پہ تھا حسین سکینہ حسین پر
پھر آئی یہ صدا کے چلو شام جانا ہے
سب اک جگہ سکینہ کو اک جا بٹھانا ہے
اونٹوں کو تیز راہ میں ہم کو چلانا ہے
ناقے سے جان بوجھ کے اس کو گرانا ہے
بچی کے گرنے سے جو شہ دیں کا سر رکے
عابد کو اتنا مارو کے پھر قافلہ چلے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.