Yun bhai ke chehlum ki Zainab ne ibtida ki
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen
یوں بھائی کے چہلم کی زینب نے ابتدا کی
فرش عزا بچھایا اور مجلس بپا کی
کہتی تھی یہ لپٹ کر تربت سے بھائی کی
ظلم و ستم کی ہم پہ لوگوں نے انتہا کی
کیسے بتاؤں تم کو بھیا احوال شام
ہر موڑ پہ زینب نے مرنے کی بس دعا کی
غیرت کا خدا رو کے چادریں مانگتا تھا
عابد کو بڑی فکر تھی بھیا میری ردا کی
میں لا سکی نہ ساتھ سکینہ کو کربلا
دو بالیاں ردا مگر لائی ہوں سکینہ کی
وہ مقتل عابد تھا میں بے ردا جہاں تھی
رب جانے کتنی بار عابد نے یوں قضا کی
ناقے کی پشت پر کبھی زندان شام میں
شب کی نمازیں کیسے بتاؤں میں نے ادا کی
چہلم کروں دلاور مولا کا کربلا میں
فرش عزا پہ میں نے بس ایک یہ دعا کی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.