Haye Wo Qaid Khana
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Nasir Asghar Party
سجاد کیسے بھولے غربت کا وہ زمانہ
بے پردہ بیبیوں کا بالوں سے منہ چھپانا
آنکھوں میں بس گئی ہے زندان کی اداسی
بابا کو ڈھونڈتی ہے مظلوم ایک پیاسی
دکھیا کا خوف سے وہ عباس کو بلانا
بھولی نہیں سکینہ بازار کا وہ منظر
پتھر برس رہے تھے مجبور قیدیوں پر
وہ شمر کے طمانچے ظالم کا تازیانہ
مظلوم قیدیوں کو عابد نہ بھول پائے
ہٹتا نہیں نظر سے بازار شام ہائے
بیمار ساربان کا آنکھوں سے خوں بہانا
پیاسی سکینہ ان سے افسوس ہائے بچھڑ گئی
ہر لب پہ تھا یہ نوحہ رخصت کی یہ گھڑی ہے
زندان سے وطن جب قیدی ہوئے روانہ
اب بھی محب مسلسل بیمار رو رہا ہے
آل نبی کے گھر میں فرش عزا بچھا ہے
یہ بین کر رہا ہے سادات کا گھرانہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.