Shabbir ki gardan pe hai shamsheer jafa ki
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor
شبیر کی گردن پہ ہے شمشیر جفا کی
دم رکتا ہے رکتی نہیں تسبیح خدا کی
اک بازو کہیں جسم کہیں مشک کہیں پر
بکھری ہوئی مقتل میں ہے تصویر وفا کی
خط فاطمہ صغری کا سناتے ہوئے شہہ نے
برچھی علی اکبر کے کلیجے سے جدا کی
ہاتھوں سے جدھر تھام کے جھولے پہ گری ماں
بے شیر نے لی آخری ہچکی جو قضا کی
ملبوس پہ دستار پہ ہاتھوں پہ لہو ہے
قاسم نے یوں مقتل میں ادا رسم حنا کی
خوں بن کے بہے جاتے ہیں آنکھوں سے سبھی بین
عابد کو اجازت جو نہیں آہ و بکا کی
جینے کو ہوا کی بھی ضرورت نہیں اتنی
زینب کو یہاں جتنی ضرورت ہے ردا کی
ماتم کے لیے آ نہ سکیں قید سے بہنیں
اک سال تو قبروں پہ فقط خاک اڑھا کی
پھر بعد قضا رکھ لیا تربت کے بہانے
زندان نے معصومہ کی میت نہ رہا کی
اکبر یہ بھی شبیر کا ماتم ہے قسم سے
ہوتی ہے مصلوں پہ جو تسبیح خدا کی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.