Teri Kya Baat Hai
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Mir Hasan Mir
سن کے زینب کے خطبات دربار میں بولے شاہ زمن
لاج رکھ لی ہے تو نے بڑے بھائی کی میری چھوٹی بہن
غیر کے ذکر پر تلملاتا ہے تو
ذکر حیدر پہ بس مسکراتا ہے تو
دھیان رکھتا ہے یوں میرے جذبات کا میرے مولائے من
ٹھیک سے کوئی لیتا نہ نام خدا
گر نہ ہوتی بپا دہر میں کربلا
اور زندہ رکھی تو نے وہ کربلا بنت خیبر شکن
تجھ کو آکر سلامی ستارے نے دی
تیرے جیسی کسی کی نہ شادی ہوئی
عقد تیرا خدا نے پڑھا عرش پر مرتضی کی دلہن
آسمانوں سے اتری ہے میری طرح
تیری خلقت بھی نوری ہے میری طرح
فاطمہ نے کہا ذوالفقار علی میری چھوٹی بہن
اپنے شوہر کو مرنے سے روکا نہیں
کس طرح سے جیوں گی یہ سوچا نہیں
تیری ہمت تیرے حوصلے کو سلام اے وہب کی دلہن
یوں بھی محبوب رکھتے ہیں تجھ کو نبی
تو نے پہلی گواہی ولایت کی دی
تجھ کو حاصل ہے ہیروں پہ یوں برتری اے عقیق یمن
ایسا بے لفظ اصغر نے خطبہ دیا
جس کی ہیبت سے میداں لرزنے لگا
میر سجاد خالق کی آئی صدا اے خدائے سخن
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.