Labbaik Keh Ke Aankh Se Yaksar Nikal Pare
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala
لبیک کہہ کے آنکھ سے یکسر نکل پڑے
آنسو فصیل ضبط گرا کر نکل پڑے
سانسیں اکھڑتی دیکھ کے خالق کے دین کی
دینے اسے حیات بہتر (۷۲) نکل پڑے
جیسے طلوع ہوتا ہے آنکھوں سے کوئی اشک
خیمے سے اس طرح علی اکبر نکل پڑے
عاشور اپنے پیاسوں کا یہ معجزہ تو دیکھ
صحرا میں ڈوب کر لب کوثر نکل پڑے
سوچو تو اس کی بیعت انکار کو ذرا
جس ایک کے لیے کئی لشکر نکل پڑے
رن میں علی کے لال کو پابند دیکھ کر
چاروں طرف سے سارے ستم گر نکل پڑے
شام غریباں یوں ہوئی معراج عشق کی
نیزوں کو چومنے کے لیے سر نکل پڑے
لکھتے ہوئے سلام یہ اکثر لگا مجھے
جیسے مرے خیال کے ہوں پر نکل پڑے
ساحل ورق پہ میں نے لکھا تھا فقط حسین
میرے قلم کی نوک سے گوہر نکل پڑے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.