Yeh meri aankh ke kashkol mein jo pani hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s)
یہ میری آنکھ کے کشکول میں جو پانی ہے
عزائے آل پیمبر کی مہربانی ہے
یہ ایک ننھے مجاہد کی ہے عطا کردہ
نبی کے دین پہ اس وقت جو جوانی ہے
سکھا رہی ہے سلیقے جو سرفرازی کے
وفا سرشت بہتر (۷۲) کی وہ کہانی ہے
ہماری آنکھیں محرم میں ہم سے پوچھتی ہیں
نہ جانے کون سے دریا کی یہ روانی ہے
بجھا دیئے تھے دیے شب گئے حسین نے جو
جہاں میں آج انہی کی تو ضوفشانی ہے
میں سر ہتھیلی پہ رکھ کر سلام لکھتا ہوں
مجھے یقیں ہے کہ یہ جان آنی جانی ہے
مرے وجود میں رچ بس گیا ہے ذکر حسین
اسی لیے مرے لہجے میں خوش بیانی ہے
عزیز کیوں نہ ہو مجھ کو یہ داغ ماتم کا
غم حسین کی یہ معتبر نشانی ہے
اگرچہ صبر کے ساحل پہ میں نیا ہوں مگر
غم حسین سے نسبت بہت پرانی ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.