De Ke Awaz Baap Ko Akbar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Mir Hasan Mir
دے کے آواز باپ کو اکبر سوچتے ہیں کے آئیں گے کیسے
لڑکھڑاتے ہوئے جو آ بھی گئے ہائے میرا لاشہ اٹھائیں گے کیسے
حر کے بیٹے کی لاش پر حر سے کہہ رہے تھے ابھی یہی بابا
باپ لاشے جواں اٹھاتا نہیں اس کا لاشہ میں خود اٹھاؤں گا
اب وہی مرحلہ ہے بابا پر میرا لاشہ اٹھائیں گے کیسے
ایک محشر بپا تھا خیمے میں ماں سے جس دم گیا تھا میں ملنے
آ کے بابا نے اس گھڑی دامن خود چھڑایا تھا میری بہنوں سے
میرا دامن چھڑانا آساں تھا دل سے برچھی چھڑائیں گے کیسے
فکر برچھی کی کچھ نہیں مجھ کو دل میں بس یہ خیال آتا ہے
اپنے کڑیل جواں کے لاشے پر جیتے جی باپ مر ہی جاتا ہے
اس ضعیفی میں ایک ساتھ پدر دو جنازے اٹھائیں گے کیسے
اب میں سمجھا کے کس لیے بابا میرے سینے کو چوما کرتے تھے
ہائے یاد آتی تھی ان کو جب صغری میری آنکھوں میں دیکھا کرتے تھے
دم ہے اب میرا میری آنکھوں میں مجھ سے نظریں ملائیں گے کیسے
این این علی اکبر کی رن میں آواز جب وہ دیتے ہیں
ہائے غربت غریب زہرا کی دیکھ کر شام والے ہنستے ہیں
راستہ ان کو مجھ تک آنے کا پھر یہ قاتل بتائیں گے کیسے
قتل شبیر کی ہے تیاری رن میں چمکا رہے ہیں سب خنجر
ہائے برچھی سینے میں ہے میرے لیکن اتنا مجبور بھی نہیں اکبر
شام کے لوگ میرے ہوتے ہوئے ہائے شہ پہ خنجر چلائیں گے کیسے
آنکھ میں اشک لب پہ نوحہ تھا اے تکلم عجیب لمحہ تھا
ہائے دل میں وہ بار بار کہتا تھا آنے والا ہے قاصد صغری
بھائی کی لاش پر میرے بابا خط بہن کا سنائیں گے کیسے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.