Chadrein Mangein To Har Shehar Se Aaye Pathar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Zainab (s.a) recited by Mir Hasan Mir
چادریں مانگیں تو ہر شہر سے آئے پتھر
بنت زہرا نے کہا پر نہیں کھائے پتھر
سر جھکائے ہوئے روتی ہے علی کی بیٹی
اور لعیں ہنستے ہیں ہاتھوں میں اٹھائے پتھر
کیا کریمی ہے کہ بازار میں چلتے چلتے
خون سجاد نے یاقوت بنائے پتھر
ہاتھ تو تیرے پس پشت بندھے تھے زینب
کیسے پھر بھائی کے لاشے سے ہٹائے پتھر
یہ تو انصاف نہیں جس نے بچایا اسلام
اس کی بیٹی بھرے بازار میں کھائے پتھر
طعنے دے دے کے کیا زخمی دل زینب کو
کچھ مسلمانوں کے جب ہاتھ نہ آئے پتھر
تیرا بھائی نہ رہا بنت علی ہائے غضب
ورنہ ممکن تھا کوئی تجھ پہ اٹھائے پتھر
خون ٹپکا تھا سر شاہ سے اس پر سجاد
خون پھر کیسے حلب میں نہ بہائے پتھر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.