Lo mil gayi zindan se Sakina ko rehai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mir Hasan Mir
لو مل گئی زنداں سے سکینہ کو رہائی
سجاد نے یہ کہتے ہوئے لاش اٹھائی
بابا چلے آؤ کے میں تنہا ہوں یہاں پر
بس اتنا بتا جاؤ کہ دفناؤں کہاں پر
کیا قید میں ہی دفن کرے بہن کو بھائی
گھر جانے کی حسرت تو بر آور نہ ہوئی پر
دم ٹوٹ گیا ہوگئی آزاد تو دختر
ماں بیٹی کا منہ چوم کے دیتی تھی دہائی
اب شمر طمانچے نہ اسے مار سکے گا
آرام سے سوئے گی تہ خاک یہ دکھیا
لاشے پہ یہی کہتی رہی فاطمہ جائی
بھائی نے زمیں کھود کے جب قبر سنواری
روتے ہوئے میت سر تربت جو اتاری
زندان کی دیواروں سے آواز یہ آئی
بند آنکھیں کیئے قبر میں آرام کرے گی
ماں شانہ ہلاتی رہے پھر بھی نہ اٹھے گی
یوں موت نے لوری ہے سکینہ کو سنائی
عابد پہ تکلم وہ مصیبت کی گھڑی تھی
جن ہاتھوں میں کھیلی تھی وہ معصوم سی بچی
ان ہاتھوں نے تربت بھی سکینہ کی بنائی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.