Kya baap se is tarah juda hote hain Akbar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
مقتل کی زمیں اور قیامت کا وہ منظر
تھے گود میں شبیر کی زخمی علی اکبر
بیٹے کی طرف دیکھ کے جب یاعلی کہہ کر
اک ہاتھ رکھا سینے پہ اک ہاتھ سناں پر
سینے سے سناں کھینچ کے کہنے لگے سرور
کیا باپ سے اس طرح جدا ہوتے ہیں اکبر
میری جان اکبر تو یاد بہت آئے گا
ہائے میرے لال اکبر اک بار پکارو بابا
کیا تم سے کہوں کس طرح پہنچا ہوں سرہانے
میں گھٹنوں چل کر تمہیں آیا ہوں اٹھانے
آنکھیں نہ کرو بند میری جان چلو گھر
تکلیف ہے سینے میں یہ احساس ہے ہم کو
محسوس کرو تم بھی تو اس باپ کے غم کو
مر جاؤں گا یوں ایڑیاں رگڑو نہ زمیں پر
اس حال میں گر سامنے بیٹا ترا ہوتا
زخموں کی طرف دیکھ کے کیا تو نہیں روتا
دو حوصلہ سینے سے لگا لو مجھے اٹھ کر
چہرے پہ نقاب اس لیے رہتا تھا تمہارے
اللہ نظر نا لگے اکبر کو ہمارے
پھر کس کی نظر کھا گئی ہمشکل پیمبر
کیوں باپ کی آغوش میں دم توڑ رہے ہو
غربت میں اکیلا ہمیں تم چھوڑ رہے ہو
کیوں ہچکیاں لیتے ہو مرے سامنے دلبر
ظالم نے سناں مار کے جب زیں سے گرایا
ہاتھوں سے جگر تھام کے تو خاک پہ آیا
چہرے پہ ترے خون ہے زخمی ہے ترا سر
کچھ دیر میں لے آئے گا قاصد خط صغری
ہم سے نہ پڑھا جائے گا تم بھی نہ تڑپنا
جس وقت پکاروں گا میں خط سینے پہ رکھ کر
اکبر نے جب آغوش میں لی آخری ہچکی
ذیشان و رضا خیمے سے زینب نے صدا دی
مر جائیں گے شبیر تری لاش اٹھا کر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.