Jab pareshan kabhi ranj o alam karte hain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari
جب پریشان کبھی رنج و الم کرتے ہیں
ہم عزادار نظر سوئے علم کرتے ہیں
اپنے بچوں کو بلاؤں سے بچانے کے لیے
نام عباس کو پیشانی پہ دم کرتے ہیں
حکم قرآن بھی ہے، زینت ایمان بھی ہے
ہم یہی سوچ کے مظلوم کا غم کرتے ہیں
اپنے دکھ میں کبھی رونا بھی گوارہ نہ کیا
ذکر شبیر پہ بس آنکھ کو نم کرتے ہیں
کر کے زنجیر زنی، خون بہا کر اپنا
جاں نثاری کا حسیں باب رقم کرتے ہیں
ہمیں فرصت ہی نہیں ذکر شہ والا سے
اس لیے تذکرہ اغیار کا کم کرتے ہیں
پاک زہرا کے مخالف پہ تبرہ کر کے
ہم خطا کار تو سامان ارم کرتے ہیں
میں کہاں اور کہاں مدحت آل احمد
یہ کریمی ہے وہ ساحل پہ کرم کرتے ہیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.