Dard e Shabbir jis insan ka muqaddar thehray
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General
درد شبیر جس انساں کا مقدر ٹھہرے
اس کا ہر اشک نہ کیوں خلد میں گوہر ٹھہرے
تو ہے لجپال گھرانے کا سخی ، ابن سخی
جو ترے در کے گدا تھے وہ تونگر ٹھہرے
یوں تو جاں دے گئے اسلام پہ لاکھوں افراد
ناصر دین مگر صرف بہتر ٹھہرے
پیاس میں نہر پہ قبضہ کیا پانی نہ پیا
تشنہ کاموں میں وہ عباس دلاور ٹھہرے
سر کھلے دیکھ کے عترت کے یہ ممکن ہی نہ تھا
برسر نوک سناں غازی ترا سر ٹھہرے
شاہ نے دی جو صدا ہے کوئی ناصر میرا
سن کے جھولے میں کہاں پھر علی اصغر ٹھہرے
بیڑیاں پاؤں میں اور طوق گراں گردن میں
اس پہ یہ حکم کہ بیمار نہ دم بھر ٹھہرے
قاسم و عون و محمد ہوں کہ اکبر عباس
سب کے سب رزم شہادت کے سکندر ٹھہرے
بھائی کے حلق پہ خنجر کی جو دیکھیں ضربیں
کیسے ہمشیر کا دل سینے کے اندر ٹھہرے
کوفہ و شام کے بازار تماشائی ہجوم
بارش سنگ میں تھے آل پیمبر ٹھہرے
بیٹیاں فاطمہ زہرا کی کھلے سر دربار
ہائے سجاد ترے کیسے مقدر ٹھہرے
جو تری پیاس کے احساس سے روئے برسوں
چل دیئے دنیا سے جب پھر لب کوثر ٹھہرے
تھا جو ممتاز عزادار حسین ابن علی
حشر میں اس کی شفاعت کو پیمبر ٹھہرے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.