Main Khak e Karbala Hoon
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Mir Hasan Mir
میں خاک کربلا ہوں رتبہ میرا جدا ہے
بنت علی نے مجھ کو چادر بنا لیا ہے
اکبر جوان قاسم، غازی سے چاند تارے
زین العبا نے میری آغوش میں اتارے
یعنی لہو نبی کا مجھ میں ملا ہوا ہے
کرتے ہیں رشک مجھ پر کوثر کے بھی کنارے
زینب کے سر میں میں نے دو سال ہیں گزارے
میرا ہر ایک ذرہ ہر ظلم کا گواہ ہے
شہدائے کربلا کے زخموں کو میں نے چوما
زہرا کی بیٹیوں کے قدموں کو میں نے چوما
اس واسطے ہی میری تاثیر میں شفاء ہے
روتی ہوں یاد کر کے وہ بیکسی کا منظر
مولا چھپا رہے تھے مجھ میں جو لاش اصغر
ہاں اس دن سے آج تک نہ مجھ کو سکوں ملا ہے
اے زائرین مولا چلنا یہاں سنبھل کر
قرآن فاطمہ کا بکھرا ہوا ہے مجھ پر
نا جانے کس جگہ پر اس کا لہو گرا ہے
اکبر کی لاش پر جب شبیر جا رہے تھے
اٹھتے تھے بیٹھتے تھے اور لڑکھڑا رہے تھے
منظر وہ اب بھی میری آنکھوں میں پھر رہا ہے
جس کو جناب احمد تھے دوش پر بٹھاتے
اور جبرائیل جس کو رہے لوریاں سناتے
جائے نماز اس کی سینہ میرا بنا ہے
میرا نصیب ہے ایسے قدرت نے جگایا
خاتون کے پسر کی ہے میزباں بنایا
میرا معلی ہونا شبیر کی عطا ہے
توقیر تو بھی کر لے آل عبا کا ماتم
جو شام میں گئی تھی اس بے ردا کا ماتم
ممنون ماتمی کی مخدومہ فاطمہ ہے
اکبر کی جس گھڑی سے جاگیر بن گئی ہوں
اس وقت سے حرم کی تصویر بن گئی ہوں
صد شکر رب نے مجھ کو اعزاز یہ دیا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.