Labbaik ya hussain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Mir Sajjad Mir
لبیک یا حسین لبیک یا حسین
عاشور و اربعین پہ ہم کو بلا حسین
لبیک یا حسین لبیک یا حسین
سجدے نے تیرے دین کی عزت بڑھای ہے
تیری نظم کعبے کے بھی کام آی ہے
زندہ ہے تیرے نام سے نام خدا حسین
لبیک یا حسین۔۔۔
ہے کتنے مومنین جو حج پر نہ جا سکے
بیٹھے ہیں اپنے دل میں یہ ارماں لیےء ہوے
اس سال تیرے روضے پہ حج ہو ادا حسین
لبیک یا حسین۔۔۔
کیا کربلا ہے صرف امیروں کے واسطے
کیا دور سے ہی دیکھ کے مزدور خوش رہے
کوئی سبیل کوئی تو رستہ بنا حسین
لبیک یا حسین۔۔۔
آواز دے قدم نہیں پیچھے ہٹاؤں گا
کوئی کہے گا ہاتھ تو گردن کٹاؤں گا
اس خادم حبیب کا وعدہ رہا حسین
لبیک یا حسین۔۔۔
اے کربلا کے سید و سردار السّلام
سورج طواف کرکے یہ کہتا ہے صبح و شام
تیرے دیےء سے جلتا ہے میرا دیا حسین
لبیک یا حسین۔۔۔
کس کو دکھاے زخم مسیحا کوئی نہیں
مولا ہمارا پوچھنے والا کوئی نہیں
ہے کون ہم غریبوں کا تیرے سوا حسین
لبیک یا حسین۔۔۔
قاسم کا لاشہ دشت میں پامال کر دیا
قرآں حسن کا دشت میں سارا بکھرا گیا
ٹکڑوں سے اسکے آتی تھی پھر بھی صدا حسین
لبیک یا حسین۔۔۔
تیری یتیمی بچی بھی پیچھے نہیں ہٹی
پنجوں کے بل چلی ہے وہ لیکن نہیں رکی
یہ کہتے کہتے آگیء اسکو قضاء حسین
لبیک یا حسین۔۔۔
سر تھا تیرے غریب کا پتھر کے وار پہ
تیرے پسر کے پیروں کے چھالوں میں خار تھے
پھر بھی زباں سے کہتے تھے بیٹا تیرا حسین
لبیک یا حسین۔۔۔
سجاد وہی بنتے ہیں بس زایر امام
اپنے قلم سے لکھتے ہیں عباس انکے نام
غازی سے کہکے کربلا ہمکو بلا حسین
لبیک یا حسین۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.