Haq Mera Bhool Gaye Ahle Madina
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Fatima Ladak
حق میرا بھول گئے اہل مدینہ
کب رہا ہے یہ مدینہ میرا دشوار ہے جینا میں نہ رہ پاؤں گی زندہ
سینکڑوں لوگ تھے جس وقت میں دربار گئی، پر تیری بیٹی کی تعظیم کو اٹھا نہ کوئی
تیرا فرمان بھلا کے کر کے تحریر کے ٹکڑے تیری زہرا کو نکالا
میں نے دربار خلافت میں یہ منظر دیکھے، اپنی زینب پہ برستے ہوئے پتھر دیکھے
ٹکڑے لاشوں کے اٹھائے بے ردا شام میں ہائے ام کلثوم کو دیکھا
اس طرح آئے مسلماں مجھے پرسہ دینے، پسلیاں ٹوٹ چکیں ہاتھ بھی زخمی ہیں میرے
شام غربت کا سما ہے، ہے رسن آگ دھواں ہے اور ہے بیعت کا تقاضہ
سہ نہ پائی تھی ابھی زخم یتیمی زہرا، لے کے دربار سے آئی ہے ضعیفی زہرا
روز دیتے ہیں نیا غم لو خبر رحمت عالم سن لو فریاد خدارا
جانے کیا ہے میرے رونے سے شکایت ان کو، اپنے گھر میں نہیں رونے کی اجازت مجھ کو
آ کے کہتے ہیں علی سے غم نہ ہر وقت منائے روئے اک وقت میں زہرا
چھین لی اہل سقیفہ نے نشانی تیری، حد یہ ہے لوگوں نے تحریر نہ مانی تیری
یہ سمجھتے ہی نہیں ہیں کیا کبھی بھول سکی ہیں بیٹیاں باپ کا تحفہ
اک لعیں ہنس کے یہ دربار میں بولا زہرا، انبیاء کا کوئی ورثہ نہیں ہوتا زہرا
قہقہے سنتی رہی ہوں اور سند چنتی رہی ہوں لے کے فضہ کا سہارا
درد محسن یہ مورخ کے قلم نے ہے لکھا، رک گیا سب کا پہ قنفذ کا وظیفہ
تازیانوں کا صلہ ہے اس کو انعام ملا ہے جس نے زہرا کو رلایا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.