Ummat ne sataya baba
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Syed Abbas Haider Zaidi
اس قدر مجھ کو ہے امت نے ستایا بابا
تیری زہرا نہیں رہ پائے گی زندہ بابا
مرے رونے سے پریشاں ہیں مدینے والے
ہائے غربت کا ترا سوگ منانے کے لئے
شہر سے دور عزاخانہ بنایا بابا
کر کے توہین مری ہنستے ہیں ظالم سارے
تازیانے تو کسی نے ہیں طمانچے مارے
جس نے جس طرح رلایا تھا رلایا بابا
کون سی ہے جو مصیبت نہیں جھیلی ہوگی
آپ کی قبر کی مٹی ابھی گیلی ہوگی
اور زہرا پہ ضعیفی کا ہے سایہ بابا
اس نے جینا ہے امامت کی حفاظت کے لیے
کیسے عابد کو بچانا ہے مری زینب نے
میں نے شعلوں سے گزر کر ہے بتایا بابا
میری حالت پہ مصیبت پہ سبھی روتے ہیں
کہیں بچے کہیں چھپ چھپ کے علی روتے ہیں
نوحہ گر میری غریبی پہ ہے فضہ بابا
ایسے مسجد سے پلٹ کر تری بیٹی آئی
تین گھنٹوں میں ہی بالوں میں سفیدی آئی
ایک پیشی نے کیا مجھ کو ضعیفہ بابا
قتل اصغر کبھی عابد کی اسیری دیکھی
جس گھڑی خاک پہ بکھری ہوئی تحریر چنی
مجھ کو بکھرا ہوا قاسم نظر آیا بابا
کل تھا انکار کیا جس نے قلم دینے سے
آج اس نے کیے تحریر کے ٹکڑے ٹکڑے
ہاتھ اس نے تیری زہرا پہ اٹھایا بابا
میرے پہلو سے وہ ماں کہہ کے بلاتا تھا مجھے
گفتگو کرتا تھا آیات وہ سناتا تھا مجھے
بے خطا خوں مرے محسن کا بہایا بابا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.