Darbar Se Aayi Hai Zehra
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Joan Rizvi
بیٹوں کے سہارے چلتی ہوئی دربار سے آئی ہے زہرا
لگتا ہے ابھی مر جائے گی دربار سے آئی ہے زہرا
دربار میں جانا اپنی جگہ یہ بات بھی ایک اذیت تھی
لے لے کر نام محمد کا ہر اک مستور مدینے کی
اک دوجے سے یہ کہتی تھی دربار سے آئی ہے زہرا
وہ جتنی دیر وہاں ٹھہری بابا کا منبر تکتی رہی
پر یثرب کی شہزادی کو مسند نہ مسلمانوں نے دی
سہ کر دل پر یہ گستاخی دربار سے آئی ہے زہرا
گھر آتے ہوئے خود زہرا نے ام ایمن سے فرمایا
سر چوم کے دونوں بیٹوں کا سلمان کو رو کے سمجھایا
زینب کو نہ بتلائے کوئی دربار سے آئی ہے زہرا
دل رکتا سانس اکھڑتی ہے دیواریں تھام کے چلتی ہے
چہرے پر فاطمہ زہرا کے فضہ سے بڑھ کے ضعیفی ہے
لے کر یہ سفیدی بالوں کی دربار سے آئی ہے زہرا
شبر کو چوم کے روتی ہے شبیر کی گردن چومتی ہے
رو کر کلثوم و زینب کی آنکھوں سے ہاتھ لگاتی ہے
شاید دکھ شام کے تکتی ہوئی دربار سے آئی ہے زہرا
دو گام پہ بابا کی تربت دربار میں بیٹی کی غربت
جھٹلائی گئی تھی صدیقہ ہنستی تھی دیکھ کے یہ امت
خود اپنا نوحہ پڑھتی ہوئی دربار سے آئی ہے زہرا
خالق کی عدالت ہوگی بپا انصاف کی خاطر پیش جلی
بیٹوں کو اپنے ساتھ لیے محشر میں ایسے جائے گی
جس حال میں اکبر بنت نبی دربار سے آئی ہے زہرا
تحریر فقط ٹکڑے نہ ہوئی تضحیک ہوئی تھی لفظوں کی
مسجد میں کیا کچھ گزری ہے یہ بات اسے پوچھے نہ کوئی
رو کر کہتے تھے سب سے علی دربار سے آئی ہے زہرا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.