Kehta hai tumse
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Mir Arif Ali
کہتا ہے تم سے ماہ محرم حسینیوں
مظلوم کربلا کا ہے یہ غم حسینیوں
یا مولا یاحسین
اٹھتا ہے درد شور بکا سے اٹھا کرے
جلتا ہے گر عدوے عزا تو جلا کرے
تسکین قلب بنت پیمبر ہوا کرے
ہم کو غم حسین کی دولت ملا کرے
کہتا ہے تم سے۔۔۔
وہ غم کہ جس سے ہو گےء مغموم خود رسول
وہ غم کہ جس نے آل نبی کو کیا ملول
وہ غم کہ جس سے باقی ہے دیں کے سبھی اصول
وہ غم کے جس کا درک نہیں ہو سکا اصول
کہتا ہے تم سے۔۔۔
وہ غم جو ہر شریف کے دل کو رلا گیا
وہ غم جسے حرارت ایماں کہا گیا
وہ غم جو دین حق کا مقدر بنا گیا
روز اذل سے کون و مکاں میں کیا گیا
کہتا ہے تم سے۔۔۔
وہ غم کے جس نے مردہ ضمیریں جلا دیےء
وہ غم کہ جس نے راستے حق کے دکھا دیےء
وہ غم کہ جس نے درد کے دنیا بسا دیےء
وہ غم کے جس نے کفر کہ مقصد مٹا دیئے
کہتا ہے تم سے۔۔۔
وہ غم کے جس کو زینب دلگیر نے کیا
بے پردگی میں چادریں تطہیر نے کیا
دشت بلا میں مادر شبیر نے کیا
طوقِ گلو نے پاؤں کی زنجیر نے کیا
کہتا ہے تم سے۔۔۔
وہ غم جسے نہ بھولیں گے سادات فاطمی
وہ غم جو خوں رُلاتا ہے مولا کو آج بھی
وہ غم کہ جس نے بالی سکینہ کی جان لی
وہ غم کہ جس کا بدلہ لیا جانا ہے ابھی
کہتا ہے تم سے۔۔۔
لینے کو بدلہ ظلم کا مولا ہے بے قرار
بے کل ہے انتقام شہ دیں کو ذوالفقار
اپنی زبان حال سے کہتی ہے دلفگار
مجھکو ہے بس نیام سے آنے کا انتظار
کہتا ہے تم سے۔۔۔
کیوں کر نہ انتقام کو مچلے گی ذوالفقار
وہ بھی ہے اہلبیت نبوت کی سوگوار
وہ دیکھتی ہے شاہ زمانہ ہے اشک بار
ہوتی ہے وہ بھی ساتھ میں مولا کے بے قرار
کہتا ہے تم سے۔۔۔
تابوتی طاقتوں سے نہیں ہو سکے گا کم
وعدہ ہے یہ خداے محمد کا أہل غم
طوفان حادثات میں رکتے نہیں قدم
دل کو سکوں ہے ساتھ ہے عباس کا الم
کہتا ہے تم سے۔۔۔
کرتا ہے طاہا مجلس سرور میں یہ فغاں
عارف ہماری نظروں میں وہ تاب ہے کہاں
دیکھے جو حال مادر شبیر خستہ جاں
اللّٰہ دل شکستہ شہ کربلا کی ماں
کہتا ہے تم سے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.