Mukhtar Aal-e-Muhammad
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on General
خورشید شجاعت کی کرن ہے مرا مختار
بے خوف خیالوں کا بدن ہے مرا مختار
اسرار عقیدت کا چمن ہے مرا مختار
دھرتی پہ دلیری کا گگن ہے مرا مختار
مختار کی ہیبت ہے وہ ارباب ستم میں
رعشہ نظر آتا ہے مورخ کے قلم میں
مختار کو ہم لوگ بڑھاتے نہیں حد سے
لیکن ہمیں نفرت ہے زمانے کے حسد سے
اب تک جو سرفراز ہو سرور کی مدد سے
محشر میں ملے داد جسے حق کے اسد سے
ایسا کوئی ساونت، جری، حر نہیں دیکھا
مختار سا پھر کوئی بہادر نہیں دیکھا
بجلی کو کبھی گر کے پلٹتے ہوئے دیکھو
یا جنگ میں دھرتی کو الٹتے ہوئے دیکھو
طوفاں کبھی قطروں میں سمٹتے ہوئے دیکھو
چڑیوں پہ عقابوں کو جھپٹتے ہوئے دیکھو
چومے جو کبھی موت کوئی زرد سا ماتھا
تم سوچنا مختار کی تلوار میں کیا تھا
اے قسمت اسلام کے منحوس ستارو
طغیانی تشکیک کے بہتے ہوئے دھارو
اے مکہ تہ خاک سقیفہ کے کنارو
چہروں سے ریا پاش نقابیں تو اتارو
پہلے کسی ملعون کی تائید کرو تم
پھر شوق سے مختار پہ تنقید کرو تم
مختار کا چہرہ ہے کہ صبحوں کا ورق ہے
ماتھا ہے کہ اک صفحہ انجیل ادق ہے
رخسار کی رنگت ہے کہ اعجاز شفق ہے
ہونٹوں پہ دھنک ہے کہ یہ دیباچہء حق ہے
حملے ہیں کہ آثار پیمبر کی دعا کے
مختار کے بازو ہیں کہ پرچم ہیں قضا کے
آنکھیں ہیں کہ فانوس رخ عرش بریں پر
پلکیں ہیں کہ جھومر ہیں ستاروں کی جبیں پر
زلفیں ہیں کہ بادل سے رخ مہر مبیں پر
ہیبت ہے کہ اک حشر سا کوفے کی زمیں پر
یہ پھول یہ جگنو یہ فلک تاب ستارے
مختار کی تلوار سے جھڑتے ہیں شرارے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.