Halqay mein rasoolon ke woh Maah-e-madni hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Rasool Allah (s.a.w.w) recited by Nusrat Fateh Ali Khan
حلقے میں رسولوں کے وہ ماہ مدنی ہے
کیا چاند کی تنویر ستاروں میں چھنی ہے
کہہ دے میرے عیسی سے مدینے میں یہ کوئی
اب جان پہ بیمار محبت کے بنی ہے
محبوب کو بے دیکھے ہوئے لوٹ رہے ہیں
عشاق میں کیا رنگ اویس قرنی ہے
گھر سے کہیں اچھا ہے مدینے کا مسافر
یاں صبح وطن شام غریب الوطنی ہے
معراج میں حوروں نے جو دیکھا تو یہ بولیں
کس نوک پلک کا یہ جوان مدنی ہے
اک عمر سے جلتا ہے مگر جل نہیں چکتا
کس شمع کا پروانہ اویس قرنی ہے
عشاق سے پوچھے نہ گئے حشر میں اعمال
کیا بگڑی ہوئی بات محبت سے بنی ہے
یاد احمد مختار کی ہے کعبہ دل میں
مکے میں عیاں جلوہ ماہ مدنی ہے
کس شوق سے جاتے ہیں مدینے کے مسافر
محبوب وطن سے کہیں یہ بے وطنی ہے
کہتا ہے مسافر سے یہ ہر نخل مدینہ
آرام ذرا لے لو یہاں چھاؤں گھنی ہے
آغوش تصور میں بھی آنا نہیں ممکن
حوروں سے بھی بڑھ کر تری نازکبدنی ہے
اللہ کے محبوب سے ہے عشق کا دعوی
بندوں کا بھی کیا حوصلہ اللہ غنی ہے
آنکھوں سے ٹپکتا ہے مری رنگ اویسی
جو لخت جگر ہے وہ عقیق یمنی ہے
میں اس کے غلاموں میں ہوں جو سب کا ہے آقا
سردار رسل سید مکی مدنی ہے
اعدا نے جہاں مانگی اماں رک گئی چل کر
شمشیر حسینی میں بھی خلق حسنی ہے
ہر دل میں ہے محبوب الہی کی تجلی
ہر آئینے میں عکس جمال مدنی ہے
مقتل ہے چمن نعش پہ حوروں کا ہے مجمع
کیا رنگ میں ڈوبی مری خونیں کفنی ہے
پہنچی ہیں کہاں آہیں اویس قرنی کی
باغوں میں مدینے کے ہوائے یمنی ہے
کچھ مدح پڑھوں روضہ پر نور پہ چل کر
یہ بات امیر اب تو مرے دل میں ٹھنی ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.