Hum Kaise Chale Jayein
Noha Lyrics & Urdu Writeup on As'hab e Hussain recited by Mir Hasan Mir
عاشور کی شب کرتے تھے اصحاب یہ نوحہ
ہم کیسے چلے جائیں تمہیں چھوڑ کے مولا
مانا کہ ضرورت نہیں حضرت کو ہماری
عباس سا بھائی ہے حفاظت کو تمہاری
زہرا کو مگر پھر بھی ہے منہ ہم نے دکھانا
کوزے لئے ہاتھوں میں ہیں معصوم سے بچے
ان پیاسوں کو پانی کی بڑی آس ہے ہم سے
مر جائیں گے یہ گر ہمیں جاتے ہوئے دیکھا
جس روز سے آباد کیا تم نے یہ جنگل
اک بی بی یہاں روتی ہے راتوں کو مسلسل
لگتا ہے لحد چھوڑ کے خود آئی ہیں زہرا
آنکھوں میں نظر آتی ہے بچی کی غریبی
ڈرتی ہے کہ تنہائی نہ بڑھ جائے پدر کی
آ آ کے ہمیں تکتی ہے حسرت سے سکینہ
سینہ علی اکبر کا بہت چوم رہے ہو
جو تم پہ گزرتی ہے وہ معلوم ہے ہم کو
ہم لوگ بھی تو صاحب اولاد ہیں آقا
کیا عالم غربت نبی زادی پہ پڑا ہے
کہنے کی نہیں بات مگر ہم نے سنا ہے
ہے آپ کی زینب کو بہت ہم پہ بھروسہ
اکبر جو دیے خیمے میں غازی نے جلائے
تھا ایسا سماں شہ کے بھی آنسو نکل آئے
تلوار گلے پر رکھے ہر شخص تھا کہتا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.