Main Khak e Shifa Hoon
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Mir Sajjad Mir
میں خاک کربلا ہوں شفا بانٹتی ہوں میں
ہر لاعلاج غم کی دوا بانٹتی ہوں میں
کیا مجھ سے پوچھتے ہو کہ کیا بانٹتی ہوں میں
شمس و قمر کو رزق ضیاء بانٹتی ہوں میں
سوچو ذرا سی دیر کدھر جائے کائنات
میں بھی شفا نہ بانٹوں تو مر جائے کائنات
جو دشمن حسین ہے میرا ہے وہ رقیب
میرا مطب ہے کرب و بلا اور میں طبیب
آتے ہیں سب یہاں پہ تونگر ہو یا غریب
دعوی ہے میرا جیسا بھی جس کا بھی ہو نصیب
لے آؤ اس کو جس کی جہاں میں دوا نہیں
اس کو شفا نہ دوں تو میں خاک شفا نہیں
آنکھوں سے مس کرو مجھے بینائی پاؤ گے
عزت میری کرو گے پذیرائی پاؤ گے
آگے میرے جھکو گے تو اونچائی پاؤ گے
مجھ سے جو دور ہو گے تو رسوائی پاؤ گے
باہو بھٹائی کا یہی ارشاد پاک ہے
یہ خاک گر نہ ہو تو زمانے پہ خاک ہے
میرا مقام دین پیمبر سے پوچھ لو
ہوں کتنی خوش نصیب مقدر سے پوچھ لو
جوہر ہیں مجھ میں کتنے یہ گوہر سے پوچھ لو
ہیں کتنے لعل مجھ میں قلندر سے پوچھ لو
پوچھو عقیدتوں سے میرا کیا مقام ہے
مٹی ہوں پھر بھی پاؤں لگانا حرام ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.