Pani Masooma Ne Manga To Tamanchay Khaye
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mir Sajjad Mir
پانی معصومہ نے مانگا تو طمانچے کھائے
روئی بابا کو سکینہ تو طمانچے کھائے
جلتے خیموں سے نکلتے ہوئے اس بچی نے
راستہ پوچھا نجف کا تو طمانچے کھائے
چھیننے آیا جو بچی کی ردا شمر لعیں
اس نے چادر کو نہ چھوڑا تو طمانچے کھائے
اپنے چہرے کو طمانچوں سے بچانے کے لیے
ننھے ہاتھوں سے چھپایا تو طمانچے کھائے
بھائی کا ننھا سا سر گرتا تھا جب نیزے سے
اس نے گودی میں اٹھا تو طمانچے کھائے
کیوں میرے بابا پہ ظالم تو چلاتا ہے چھری
اس نے جب شمر سے پوچھا تو طمانچے کھائے
کوفہ و شام کے بازار میں چلتے چلتے
تھک کے بیٹھی جو سکینہ تو طمانچے کھائے
گر گئی تھی وہ کہیں چلتے ہوئے ناقے سے
شمر جب ڈھونڈ کے لایا تو طمانچے کھائے
میر سجاد سکینہ بھی ہے زہرا کی طرح
ہو گئی جب یہ یتیمہ تو طمانچے کھائے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.